سندھی سے ترجمہ: رحمت تونیو
تحریر: بخشل تھلہو
بارشوں نے گلگت بلتستان، سوات، سرائیکی وسیب اور بلوچستان کو ڈبویا مگر سندھ ابھی تک ڈوب رہا ہے، اس لیے نہیں کہ یہاں پر ریکارڈ توڑ بارشیں ہوئیں یا سندھ ڈھلوان ہے اور پانی کا آخری اخراج ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہاں پر ہی عسکری مفادات، نااہل حکمرانوں اور جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ قائم ہے۔
سندھ میں سب سے زیادہ بارشیں پڈعیدن (نوشہرو فیروز) موہن جوداڑو (لاڑکانہ) اور چھور (عمرکوٹ) میں ہوئیں۔ بارشوں نے سکھر ڈویژن، جیکب آباد، میرپور خاص، نواب شاہ اور بدین کے اضلاع سمیت تمام سندھ کو ڈبو کر رکھ دیا ہے۔ بارشوں کا پچھلا اسپیل 26 اگست کو ختم ہوگیا تھا لیکن پھر بھی آر بی او ڈی (رائیٹ بینک آؤٹ فال ڈرین) کی غلط منصوبہ بندی اور دریا کے قدرتی راستوں کو بند کرنے کے باعث جھڈو شہر پانی کے نیچے آ گیا۔ بلوچستان سے آنے والے پانی کو بھی درست طور اور بر وقت سنبھالا نہیں گیا۔ بارشوں سے پہلے مقامی جاگیر داروں نے حمل جھیل کو سکھا کر اس زمین پر قبضے کرائے تھے اور منچھر جھیل کو بھی اس وقت خالی نہیں کیا گیا جب اس کا پانی دریا قبول کر رہا تھا۔ ضلع دادو کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ سب سے پہلے ڈوبا، جو ابھی تک دس فیٹ پانی کے نیچے ہے۔
فریدآباد، جوہی اور میہڑ شہر کافی وقت تک پانی کے دباؤ میں تھے پر وہاں کے مقامی لوگوں (خاص طور پر عورتوں نے بند باندھنے کی شروعات کی) نے اپنی ہمت پہ بند باندھ کر شہر کو ابھی تک بچا کر رکھا ہے، قمبر شہدادکوٹ کے شہر بھی پانی کے گھیرے میں ہیں مگر ان کی تحصیل وارہ اور گاجی کھاوڑ سمیت دیگر ٹاؤن پانی تلے آ چکے ہیں۔ منچھر کو کٹ دینے اور شگاف پڑنے سے اب ضلع جامشورو کی باری ہے۔ جس کے بعد بدین اور ٹھٹھہ اضلاع پر بھی دباؤ بڑھے گا۔ اسی طرح سندھ کے حکمرانوں نے اپنے غلط اور بے وقت فیصلے کر کے سندھ کے عوام کو سو پیاز بھی کھلائی اور سو کوڑے بھی مروائے۔ ہماری مقامی سندھی اور اردو میڈیا صرف آس پاس کے نقصان شدہ گھروں اور چند متاثرین کی تصاویر کھینچ کر سمجھے کہ کوریج ہوگئی۔ حالانکہ قہر کی صورتحال “روز نئے نالے بہتے ہیں مگر دریا ابھی آگے ہے۔“ کی مصداق تھی۔ حامد میر بھی سکھر کے گردو نواح کو کور کر کے پہلے اپنا کام کر گیا۔ وہ صرف بیرونی ممالک کے صحافی اور ادارے ( جرمن ڈی ڈبلیو، برطانوی گارجین، ٢٤ فرانسیسی) ہیں جنہوں نے تحقیقی صحافت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے” کے این شاہ“ سمیت اصل سیلاب کی کوریج کی۔
ہم نے بھی 4 ستمبر کی صبح کو عالمی اور مقامی صحافیوں کے ساتھ سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہوئے علاقوں کا رخ کیا۔ میہڑ شہر سے بذریعہ کشتی نکلے تو سورج کی تپش بہت تیز تھی، حبس اور پانی کی سطح پر دھوپ کے عکس کے باعث گرمی کی شدت دگنی ہوگئی تھی۔ بیچ میں کولاچی اور ایک دو بالائی جگہوں پر موجود گوٹھوں میں کچھہ لوگ نظر آئے۔ خیرپور پہنچنے تک دو گھنٹے لگ گئے۔ شہر کے باہر کچھ لوگوں کو، جو پانی میں کسی کھمبے سے لپٹے ہوئے تھے اور اس پہلے بڑھی لاٹھی کے سہارے کہیں سے تیر کر آر رہے تھے، کشتی میں اٹھا لیا گیا۔ اس کے بعد دس فیٹ سے زیادہ پانی میں ڈوبے سوا لاکھ آبادی والے شہر خیرپور ناتھن شاہ میں داخل ہوئے، جہاں پہ ابھی تک پانچ یا دس فیصد لوگ موجود ہیں۔ مقامی لوگوں سے حال احوال دریافت کیا، انہوں نے بتایا کہ ڈوبنے سے پہلے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا، امیر لوگ پہلے ہی شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے، بعد میں ایدھی والوں نے بھی کشتی سے کچھ لوگوں کو نکال سکے، باقی سرکاری ریسکیو کرنے والوں نے بھی اپنے من پسند خاندانوں کو باہر نکالا، اور کچھ غریب خاندان، جن کے پاس کشتی کے پیسے (فی بندہ ایک ہزار روپے) بھرنے کی طاقت نہیں تھی وہ یہاں شہر میں رہ گئے۔ (کل حامد میر ان علاقوں میں پہنچا ہے اور آرمی ریسکیو کی تعریفیں کرکے واپس چلا گیا)۔ ہمیں شہر میں ہی کچھ ہمت والے نوجوان (زرعی اور چانڈکا میڈیکل یونیورسٹی) کے گریجویٹ بھی ملے جو اپنے بڑوں کے ساتھ وہاں پر رہ رہے تھے۔ وہاں سے جیئے سندھ کے سینئر کارکن نظیر چانڈیو کو ساتھ لے کر ہم سپریو بند کی طرف نکلے۔ راستے میں ہر طرف صرف پانی ہی پانی تھا اور تباہ حال سینکڑوں خالی گاؤں تھے۔ بند پر پہنچنے میں سوا گھنٹہ لگا، وہاں پر نورنگ گوٹھ کے لوگ ملے جن کے پاس کھانے کے لیے اپنا کھانا تو تھا پر پینے کے لیے صاف پانی اور دوائیاں نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سیلاب کا پانی پینے پہ مجبور ہیں جس میں اپنی آنکھوں سے مرے ہوئے سانپ اور جانور دیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کئی مہلک بیماریوں نے منہ نکالا ہوا تھا، ہر دوسرے کیمپ میں کوئی بیمار بچہ تھا یا بزرگ آدمی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم پہلے لوگ ہیں جو ان متاثرین تک پہنچے ہیں۔ جبکہ بند کے دوسرے حصہ یعنی فرید آباد اور شمالی طرف کچھ دن قبل فیس بوک فرینڈ کمیونٹی کا ڈاکٹر برکت نوناری اور ہمارا ساتھی نجی اللہ دوائیاں لے کر پہنچے تھے اور وہاں ہر طبی کیمپ بھی قائم کیا تھا۔ سابق قوم پرست کارکن شیرزاد جتوئی بھی اس بند پر ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہے، جہاں گوٹھ قائم جتوئی، سعید پور، گاڑہی، بیتل، ربن فقیر سومرو کے لوگ کافی بڑی تعداد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں سے بند کے جنوب میں یعقوب ماچھی، خان، گرکن، میانی، مُوچی، کلر گوٹھ کے لوگ بھی بند پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سرکار ان تمام ہزاروں لوگوں کی مدد تو درکنار کہیں ظاہر بھی نہیں ہو رہی۔ سرکار صرف اعداد وشمار دے رہی وہ بھی جھوٹے اور غلط۔
متاثرہ لوگوں کو معلوم نہیں ہے ان پر یہ قیامت کیونکر ٹوٹی ہے، امریکہ اور چین کے کاربن اخراج سے لے کر ریاست کی سول عسکری افسر شاہی تک، سندھ حکومت کی نااہل، مجرم اور قاتل حکومت سے لے کر علاقے کے مقامی جاگیرداروں تک (جنہوں نے اپنی زمینیں، ملکیت اور گیس فیلڈز بچانے کیلئے عام لوگوں کو دوسری مرتبہ ڈبویا ہے) سب کے سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔ قاضی احمد اور سکرنڈ سمیت تمام سندھ میں جاگیردار اپنی زمینوں سے موٹرز کے ذریعے پانی نکال کر سیم نالوں میں چھوڑتے ہیں، وہ سیم نالے پھٹ کر سینکڑوں گاؤں، گوٹھ ڈبو کر تباہ کر رہے ہیں۔ اس طرح سندھ اس وقت پانی کا ایک تالاب بن کر رہ گیا ہے۔
وہی اونٹ، وہی اونٹ والے، وہی ان جگالی
بار بار مذاق، بہنو! اس بھنبھور کے ساتھ
لطیف بھٹائی
اب وہ وہی اونٹ اور سوار (حکمران) ہاضمہ کر کے کہتے ہیں کہ “قدرتی آفت ہے” (وزیر اعلیٰ)، “ہمیں گناہوں کی سزا مل رہی ہے” (سراج درانی)، “سیلاب سے عادی مجرم شہر آرہے ہیں” (سعید غنی اور مصطفیٰ کمال)، “اللہ سے مانگو ہمارے پاس کچھ نہیں” (نادر مگسی)، “میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں” (برہان چانڈیو) اور منظور وسان جیسے لوگ، عوام کا تمسخر اڑاتے نہیں تھکتے۔ وہ ڈوبے ہوئے لوگوں کو بچانا تو دور کی بات مگر ان سے ہاتھ ملانے جیسے بھی نہیں ہیں۔ جن نمائندوں کو سیلاب سے پہلے یا دوران ریسکیو جو کچھ کرنا تھا، جن کو سیلاب کی تباہی اور فلاحی کاموں کے اعداد وشمار دینے تھے (شرجیل انعام میمن) وہ لوگ ایک ہزار روپے کی راشن تھیلی تقسیم کر کے سمجھ رہے ہیں کہ کام کیا ہے۔ ناصر شاہ کہہ رہا ہے کہ “عوام الٹی باتیں نہ کریں۔” سچ یہ ہے کہ الٹی باتیں آپ کر رہے ہیں، عوام اب ان کو سیدھا کرے گا۔ بقول بھلے شاہ
الٹی ہور زمانے آئے
تاں میں بھید سجن دی پائے
یہ بھید دراصل طاقت ہے۔ طاقت حکمرانوں میں نہیں، طاقت عوام ہیں۔ جوہی اور میہڑ، ان کی مثال ہے۔
دوسری طرف جو عوامی سیاست کی بات کرتے ہیں وہ بھی ڈوبے ہوئے عوام کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ یہ ان کو سزا ہے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کی۔
ایک تو عوام (65 فیصد) ووٹ نہیں دیتی، دوسرا یہ کہ جو ووٹ دیتے ہیں وہ بھی مخلتف تنظیموں اور لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اسی طرح پی پی پی کو جو بھی تھوڑا بہت ووٹ پڑتا ہے، وہ بھی زبردستی لیا جاتا ہے، وہ ووٹ عوام کی طرف سے دیا نہیں جاتا۔ ریاست پیٹرنیج کی سیاست کا خاتمہ کرے، کسانوں کی فریادوں پر عدالتیں بروقت انصاف کر کے کچھ جاگیرداروں کو لٹکا دیں، زرعی اصلاحات کر کے جاگیرداروں سے زمینیں چھین کر سندھ کے 85 فیصد بے زمین کسانوں میں تقسیم کی جائیں۔ (یہ مطالبات نہیں بلکہ سندھ کے عوام کی سیاست کے مقاصد ہیں) اس کے بعد بھی اگر پی پی ووٹ لے لے تو جو سزا چور کی وہ ہماری سزا۔ اس کے ساتھ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے پاس حکومت کیسی آتی ہے؟ وہ ووٹ دینے والے نہیں بلکہ ووٹوں کی گنتی کرنے والے ہیں جو طے کرتے ہیں۔ اس لیے عوام پہ پی پی کو ووٹ دینے والی تنقید بےجا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم عوام کو بھی کئی مرض (پیری، مریدی، ذات پرستی، قبائلی تکرار، جاگیردارانہ اقدار وغیرہ) لگے ہوئے ہیں۔ لیکن عوامی سیاسی کارکن وہ ڈاکٹر ہوتا ہے جو مرض اور مریض میں فرق کرتا ہے، جو مریض سے نہیں بلکہ مرض سے لڑتا ہے، ہمارا کام صرف بیماریاں اور مرض بتانا نہیں پر ان کا علاج کرنا بھی ہے۔
یہ وقت ہے اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا، فلاحی کے ساتھ سیاسی اور سیاسی کے ساتھ فلاحی کام کرنے کا، تکلیف اور بےبسی کے عالم میں عوام کا ساتھی بننے کا، لطیف کے اس بیت کی طرح
ڈوبتے ہوئے کچھ لوگ دریا کنارے اگی گھاس میں ہاتھ ڈالتے ہیں
اے لوگو! ان گھاس کے تیلوں کا شرم دیکھو، یہ گر ڈوبتے کو کنارے نہیں لگاتے تو اسی کے ہو لیتے ہیں۔
ہم سیاسی کارکنان نے گر اس بیت کی طرح اپنے عوام کو سنبھالا تو یقیناً وہ پار ہو جائے گی اور کل منظم بھی ہو جائے گی۔ کیونکہ عوام کو اپنے تجربے نے ہی اتنا سکھایا ہے جو کوئی سیاسی پمفلیٹ یا کوئی تقریر نہیں سکھا سکھتا۔ ان کے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں ماسوائے اپنے ساتھ کھڑے ہوئے سیاسی کارکنان کے ساتھ ایک ہو کر اس سرکار اور الٹے نظام کو پھر سے الٹا کر کے ہر چیز کو سیدھا کرنے کے۔
نوٹ: یہ شاہ لطیف کی شاعری سے اقتباس ہے، جس کا تعلق سسی اور اس کے وطن بھنبھور سے ہے۔ سسی کہتی ہے کہ ہر بار مزاق ہوتا ہے میرے بھنبھور کے ساتھ۔
